پنجی،20؍ستمبر (ایس او نیوز) سال 2009کے اکتوبر میں دیوالی کے موقع پر جنوبی گوا کے مڈگاؤں میں جو بم دھماکہ ہواتھا اس معاملے میں گوا پولیس کی کرائم برانچ نے سناتن سنستا سے وابستہ 11افراد کو ملزم بنایا تھا۔ اس کے بعد یہ کیس تحقیقاتی ایجنسی این آئی اےکوسونپا گیا تھا۔
مہاراشٹرا کے رہنے والے پاٹل اور یوگیش نائک سمیت ونئے تلیکر، دھنن جئے اشٹھیکر، پرشانت اشٹھیکر، ونائک پاٹل، پرشانت جویکر اوردلیپ مجگاؤنکر اور دیگر تین افرادکے خلاف جوچارج شیٹ داخل کی تھی اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان ملزمین نے بم تیارکیا تھا۔دو ملزمین پاٹل اور یوگیش نائک نے اپنے اسکوٹر پراس کو مڈگاؤں پہنچانے کی کوشش کی تھی ، مگر اپنے مقام پر پہنچنے سے قبل ہی مڈگاؤں گریس چرچ کے قریب یہ بم پھٹ پڑا اوریہ دو ملزمین ہلاک ہوگئے تھے۔
گوا کی خصوصی عدالت نے داخل کی گئی چار ج شیٹ کے ذریعے جرم ثابت نہ ہونے کی بات کہتے ہوئے6 ملزمین کو بر ی کردیاتھا۔ اس فیصلے کےخلاف این آئی اےنے بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جس کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے بھی گوا عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے ان ملزمین کو بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کردیا۔ خیال رہے کہ ابھی اس معاملے کے 3ملزمین فرار بتائے جاتے ہیں۔